ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کی جانب سے کراچی میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کی تسلسل کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جاری دھرنے میں علماء و ذاکرین، ماتمی انجمنوں، ملی تنظیموں سمیت ہزاروں کی تعداد میں خواتین و بچوں سمیت افراد کی شرکت کے موقع پر شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ سید ناظر تقوی سے گفتگو کے بعد ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کے جانی و مالی تحفظ جیسی بنیادی اور اساسی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوجائے، جب عوام کے بنیادی مذہبی، قانونی حقوق اور شہری آزادیوں پر قدغن لگانے کی سازشیں کی جائیں، جب ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دی جائے؛ جب یونیورسٹیوں میں لہو و لعب کے پروگراموں کی تو اجازت ہو مگر نواسۂ رسول اکرم (ص) کی یاد منانے کے لئے ’’یوم حسین(ع) ‘‘ پر پابندی عائد کر دی جائے، جب گلگت میں جید عالم دین کے قاتل اور مسلمہ دہشت گرد جیل سے فرار کرا لئے جائیں، جب ایام غم میں مصنوعی خوف و ہراس پھیلا کر عزاداری کو سنگینوں کے سائے میں منانے کو کہا جائے، جب ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی اور راولپنڈی میں عزاداروں کو ان کے اپنے ہی خون میں نہلا دیا جائے اور جب کوئٹہ میں قاتل دن دیہاڑے معصوم انسانی جانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہوں اور ان گھمبیر حالات میں عوام کا کوئی پرسان حال نہ ہو اور کسی سمت سے بھی ان کے لئے جائے پناہ باقی نہ بچے تو عوامی احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ چنانچہ کراچی میں شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کا علامتی دھرنا ریاست کے ذمہ داروں پر حجت تمام کرنے کا ایک اشارہ ہے، اگر اب بھی صورت حال کی سنگینی کا ادراک نہ کیا گیا تو پھر متاثرہ عوام کا ایسا ملک گیر احتجاج ہوگا جو قاتلوں، دہشت گردوں اور بدامنی پھیلانے والے عناصر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
16 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 372950
دھرنا ریاست کے ذمہ داروں پر حجت تمام کرنے کا ایک اشارہ ہے، ترجمان ایس یو سی نے کہا کہ اگر اب بھی صورتحال کی سنگینی کا ادراک نہ کیا گیا تو پھر متاثرہ عوام کا ایسا ملک گیر احتجاج ہوگا جو دہشتگردوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔